جرأت، وفاداری اور خدمتِ وطن کی ایک روشن داستان
کیپٹن راجہ امان اللہ خان (PSS 25277) یکم جون 1949 کو ضلع جہلم (موجودہ ضلع گجرات) کے گاؤں بیسہ کلاں میں ایک معزز چوہیب راجپوت خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد راجہ محمد زمان خان گاؤں کی ایک بااثر اور باوقار شخصیت تھے اور انہوں نے پاک فوج کی 3 پنجاب رجمنٹ میں خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے 1948 کی پاک بھارت جنگ میں بھمبر سیکٹر میں بہادری سے حصہ لیا۔ 1964 میں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وطن کی پکار پر 1965 کی جنگ میں دوبارہ طلب کیے گئے اور سیالکوٹ سیکٹر میں دشمن کے خلاف شجاعت کی نئی مثال قائم کی۔
ابتدائی تعلیم اور عسکری زندگی کا آغاز
کیپٹن راجہ امان اللہ خان نے اپنی ابتدائی تعلیم بیسہ کلاں ہائی اسکول سے حاصل کی۔ 1967 میں انہوں نے پاک فوج کی 37 لوکیٹنگ رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ عسکری خدمات کے دوران انہوں نے 1971 کی پاک بھارت جنگ میں غیر معمولی جرأت اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔
سیالکوٹ میں سروس کے دوران انہوں نے 17ویں آفیسر ٹریننگ اسکول (OTS) کے لیے درخواست دی اور اپریل 1986 میں کمیشن حاصل کیا۔ یہ ان کی محنت، لگن اور پیشہ ورانہ قابلیت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
نمایاں عسکری خدمات
کمیشن حاصل کرنے کے بعد انہیں 2 ٹریننگ رجمنٹ، اٹیک آرٹلری سینٹر میں بطور کیو ایم تعینات کیا گیا۔ ان کی عسکری زندگی تقریباً تین دہائیوں پر محیط رہی، جس میں انہوں نے مختلف یونٹس میں نمایاں خدمات انجام دیں، جن میں شامل ہیں
- 37 لوکیٹنگ رجمنٹ
- اٹیک آرٹلری سینٹر
- 4 فیلڈ ایمبولینس
انہوں نے 1999 میں بطور کیپٹن ریٹائرمنٹ حاصل کی اور اپنے پیچھے بہادری، دیانت داری اور خدمتِ وطن کی ایک شاندار روایت چھوڑ گئے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ وہ موجودہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف پاکستان، جنرل عاصم منیر کے ہمراہ بھی خدمات انجام دے چکے تھے، جو ان کے عسکری حلقوں میں مضبوط تعلقات اور پیشہ ورانہ مقام کا مظہر ہے۔
خاندانی زندگی اور اولاد
کیپٹن راجہ امان اللہ خان ایک شفیق والد اور نہایت منکسر المزاج انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں 3 بیٹوں اور 7 بیٹیوں سے نوازا۔ ان کے صاحبزادگان میں شامل ہیں:
- راجہ زاہد امان (امریکہ میں مقیم)
- راجہ میجر دوست محمد خان (پاک فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں)
- راجہ اسداللہ خان (KFC میں ملازمت کے ساتھ سماجی خدمات میں مصروف)
میجر دوست محمد خان اپنے والد اور دادا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ملک اور گاؤں کا نام روشن کر رہے ہیں۔
وصال اور یادگار خدمات
کیپٹن راجہ امان اللہ خان یکم جنوری 2021 کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کا انتقال ان کے اہلِ خانہ اور پورے گاؤں کے لیے ایک عظیم سانحہ تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی وطن کی خدمت، دیانت داری اور اعلیٰ اخلاق کے ساتھ گزاری۔
اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
فلاحی خدمات کا تسلسل
ان کی وفات کے بعد بھی ان کے خاندان نے گاؤں کی خدمت کا مشن جاری رکھا ہوا ہے۔ نائب صدر راجہ اکرام اللہ، جو اس وقت اسپین میں مقیم ہیں، Besa Welfare Executive Society کے پلیٹ فارم سے گاؤں بیسہ کلاں میں فلاحی سرگرمیوں کی قیادت کر رہے ہیں۔
بیسہ ویلفیئر ایگزیکٹو سوسائٹی بیسہ کلاں گجرات اپنے مرحوم بزرگوں کی روایات کو زندہ رکھتے ہوئے خدمتِ خلق کا یہ سفر جاری رکھے ہوئے ہے، جو کیپٹن راجہ امان اللہ خان کی زندگی اور کردار کی حقیقی عکاسی ہے۔





